منڈگوڈ10؍جون (ایس او نیوز)مدھیہ پردیش میں کسانوں پرپولیس فائرنگ اور کرناٹکا اور دیگر ریاستوں میں کسانوں کے لئے موجودہ دوہرے قانونی پیمانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جنتا دل ایس کے کارکنان نے منڈگوڈ میں تحصیلدار کی معرفت صدر ہند کے نام میمورنڈم دیا۔
میمورنڈم میں کہا گیاہے کہ کسانوں کی طرف سے اپنی فصلوں کے لئے اچھی قیمتوں کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنا ایک فطری بات ہے۔ اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے تمام عوامی نمائندوں اور وزراء کو تعاون کرنا چاہیے۔اس کے برخلاف احتجاجیوں پر پولیس فائرنگ کرنا قابل مذمت ہے۔میمورنڈم میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ مدھی پردیش میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کسانوں کو وزیر اعظم نے ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ گزشتہ سال کلسا بنڈوری احتجاج میں کسانوں پر ظلم ہواتھا۔ کاویری تنازعہ کے پس منظر میں ہوئے احتجاج میں متاثر اور ہلاک ہونے والوں کو مرکزی حکومت نے ایک کروڑ روپے معاوضہ نہیں دیا تھا۔ اس طرح کرناٹکا کے کسانوں اور دیگر ریاستوں کے کسانوں کے ساتھ دوہرے قانون پر عمل کیا جارہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پورے ملک کے کسانوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
اس موقع پرجے ڈی ایس کسان مورچہ کے صدر گنگادھر کلکرنی، ایچ ڈی کے بریگیڈ کے صدرچائیترا گوڈا،مناف مرجانکر،گرو ناتھ، توکارام ،محبوب علی ،کیمنا لمانی، باباجان وغیرہ موجود تھے۔